شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، آٹھ دہشت گرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان میں کارروائی کرتے ہوئے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی بدھ کے روز اس وقت کی گئی جب سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ملی۔ بیان میں کہا گیا کہ “خوارج کے ایک گروہ کی موجودگی پر فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کی جس کے نتیجے میں آٹھ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔”
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
فوجی بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، 11 خوارج ہلاک: آئی ایس پی آر
آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ افغان طالبان حکومت سرحد پار مؤثر نگرانی میں ناکام رہی ہے اور اسے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔
فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے سیکیورٹی فورسز ہر وقت تیار اور پرعزم ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ “عزم استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری مہم پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔
صدر آصف علی زرداری نے کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع میں ان کا کردار قابل فخر ہے۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں نے دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور سیکیورٹی فورسز آپریشن “غضب الی الحق” کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
















